Archive for the 'کالم اور مضامین' Category
اج ایک عجیب کا احساس جاگا که ایک کسک تھی که ایک حیرانی تھی یاکه کچھ اور که چرخ گردوں نے نے بھی پھیرا لینا تھا
یا که میرے اندر کہیں یه خواهش چھپی هوئی هے که لوگ علمی طور پر بھی بڑے هوں ــ
آج میاں عاصم نے مجھے کہا که ہم آپ کی خبریں خریدنے میں دلچسپی رکھتے هیں
وه خبریں جو میں جاپان کی لوکل خبریں جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگاتا هوں ـ
آج برفی باری تھی هلکی سی جو که جمعے کی نماز پڑھنے تک کافی هو گئی تھی
میں نے بھی جو سکریپ ٹرک پر لادھ کر لایا تھا اس کو سکریپ یارڈ میں چھوڑ کر کام کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
اس لیے جین اور جیکٹ میں هی نکلا تھا
اپنے شاھ جی کو بھی فون کرکے ان کے ساتھ هی ان کی گاڑی میں کالی کافی پی اور پھر تھوڑی اوارھ گردی کی جس ميں عامر سکریپ والی کے یارڈ میں اس سے ملنا بھی شامل تھا
عامر جاپان ميں پاکستانیوں میں تعلیم یافته اور حلیم طبیت کاروباری بندھ ہے اس لیے اس سے گفتگو کا مزھ آتا هے
اس کے بعد اباراکی کین کی یوکی شهر والی مسجد میں نماز کے لیے گئے
یه مسجد تین منزله بلڈنگ هے جو که ساری مسجد هی کی ملکیت ہے
اس کی دوسری مسجد هلال فوڈ سٹور اور ڈھابه ٹائپ ریسٹوریٹ بھی ہے اور تیسری منزل پر نماز کی ادائیگی هوتی ہے
مٹن پلاؤ پکا تھا جی میں نے اور شاھ جی نے بھی کھایا اور روایت کے مطابق بل کی ادائیگی شاھ جی نے کی ـ
جی هاں بھولے شاھ صاحب کو ساتھ جب بھی ریسٹوریٹ جائیں بل شاھ جی هی دیتے هیں
تو جی وهاں ماں عاصم نے خبروں کی تجارت پر بات کی تھی تو میں خوش هوا که علمی طور پر اب جاپان میں میں بھی یه ماحول بن گیا هے که تحاریر کی باتیں هوتی هیں یا ان کی قیمت کا احساس پیدا هوا ہے
لاهور میں کہیں علمی لوگوں کی محفلوں میں ایسی باتیں هوتی هوں گی ـ
یا کهیں کسی پبلشر کی بیٹھک (دفتر) میں هوتی هوں گی
جاپان کا ماحول کبھی بھی عملی نهیں رها هے
که اس کی مثال دی جا سکے
اب اس کا مطلب یه بھی نهیں ہے که کم علمی ایسی هو که جیسے میں نے کسی سے پوچھا تھا که جی
اپنا اسم شریف تے دسو
تو اس بندے نے بڑی شرمندگی سی سے کہا تھا
جی اسم شریف تے نہیں آتا درود شریف یاد هے
وهاں فرانس میں ایک سکھ سے پوچھا تھا
که
جی تہاڈا اسم شریف ؟؟
تو اس کا جواب تھا
جی میں لدھیانے دا واں ـ
لیکن یه بات یاد ہے که جب نئے نئے آئے تھے تو جس گھر میں رهتے تھے ان میں سے کچھ دوستوں نے کهیں سے یه محاورھ سن آئے تھے
دریا کو کوزے میں بند کرنے والا
تو جی انهوں نے گھر اتے هی مجھے پوچھا که تم بڑی علمی باتیں کرتے هو اج ذرا بتاؤ ناں جی که دریا کو کوزے میں بند کرنا کسی کو کهتے هیں ؟
جب میں نے ان کو بتایا که کسی بڑی گہری بات کو جس میں کتنے هی معنی نکلتے هوں اس بات کو مختصر کرکے بتا جانے کو دریا کو کوزے میں بندکرنا کہتے هیں تو جی وھ حیران هو گئے که یار تم پیبڈو هو کر بھی ساری باتیں جاتے هو حلانکه وهاں جب ایک بندے نے یه سوال کیا تھا تو بیس بندوں میں سے کسی کو بھی اس کا جواب نهیں ایا تھا
لیکن یارو اب بندھ ان سے پوچھے که ایک محامورے کو جاننے سے خاور کی بات بڑی کیسے هو گئی
ایک اور بات جو میں نهیں بھول سکتا
که ایک لڑکا هوا کرتا تھا ناصر نام کا وهاں گوجرانواله میں ایک وحدت کالونی هے وهاں کا
تو جی ایک دن
ناصر کسی کو فون کررها تھا
که کاٹنے سے پہلے اس کو کہتا ہے
اگر ہمارے لائق کوئی خدمت کو تو ضرور ” عرض ” کرنا
میں نے کہا که یار جی دوسرے بندے کو حکم کرنےکا کہتے هیں ناں که عرض کرنے کا
اپنے عرض کرنے کی بات هو تی کسی کی خدمت میں
تو ناصر اکڑ گیا که جی نهیں همارے گاؤں میں ایسا هی هوتا ہے اور هم ایسے هی کہتے هیں
حالانکه ناصر بڑا چنگا بندھ مشهور تھا جی ان دنوں لوکاں میں ـ
خوش حال خان خٹک کے ایک پشتو شعر کا علامه اقبال نے منظوم ترجمه کیا تھا
جس کو زیادھ تر لوگ اقبال کا هی شعر سمجھتے هیں
محبت مجھے ان جوانوں سے هے
ستاروں په جو ڈالتے هیں کمند
اور خود اقبال نے یه کها تھا
سبق ملتا ہے مجھے معراج نبوی سے یه
عالم بشریت کی زد میں هیں گردوں
گردوں !ـ کہکشاں !ـ
دور ستاروں کی باتیں بشر کی دسترس میں هیں یا نهیں ؟
٤ اکتوبر ١٩٥٧ کے روز عظیم روس نے پہلا سیٹلائیٹ خلا کو داغا تھا ـ
اس کے بعد ایک لمبی لسٹ ہے جی خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی ـ
امریکه اور روس کو خلا میں دوڑ نے دنیا کو بہت کچھ دیا هے
انسانیت کے جثے پر لگے زخموں پر کچھ مرهم اس دور کیا ایجادات نے رکھاهی هے
لیکن اے کاش که اس دوران دریافت هونے والی تکنیکوں کو اسلحے کی بجائے زراعت میں استعمال کیا جاتا تو
لوگ گولیوں یا بموں کی بجائے شوکر اور کیلسٹرول سے مرتے ، چلو یارو بھوک سے مرنے سے تو بہتر ہے ناں جی که لوگ بسیار خوری سے مریں ـ
ستاروں په کمندیں ڈالنے والے جوانوں کی فهرست میں اب جی جاپانی جوانوں کانام
اور دنیا کو ایک للکارتی هوئی دعوت که جی عام لوگ بھی کچھ کر هی سکتے هیں
اگر وه پاکستان میں پیدا ناں هوں تو ـ
شعله ون نام کا ایک سیٹلائیٹ کچھ جوانوں نے تیار کیا هے
کوڑے کرکٹ سے چیزوں کو چن چن کر خاور کی طوکیو میں پسندیدھ جگه اکی هابار کی ایلکٹرونس مارکیٹ سے پیسے جوڑ جوڑ کر پرزے اکھٹے کرکے بنایا گیا هے
ان جوانوں نے جو که اوساکا کی ایک ٹیکنیکل یونورسٹی کے طالبان ہیں باقی تو سب هی چیزیں تیار کر لی تهیں مگر ایک ایسی دھات جو که خلا میں جاکر بیرونی اثرات کا مقابله کر سکے م اس بز انے والے اخراجات ان غریب طالب علموں کے بس کے نهیں تھے اور اس کے بعد اس سیٹلائیٹ کو خلامیں داغنے کاکام تو ان کے خیال میں یه تھا که جی انے والی نسل میں کوئی اس کام اگے بڑھائے گا
عظیم لوگوں کا خیال هوتا ہے که جی هم اپنے حصے کا کام کرکے مرجاتے هیں اور انے والے اس سے اگے اپنے حصے کا کرلیں گے
پاکستان کے ابا جی لوگوں کی طرح نہیں که اپنے باپ کا کام بھی اگے نهیں بڑھایا اور ناں هی اولاد کے کام کو بڑھنے دیا ہے
بس جی کھایا پیا
ٹٹی کی اور مرگئے
اباجی بہت عظیم تھے
هان جی تو اوساکا کے ان سٹوڈنٹوں نے اپنے اردگر جب اس بات کا ذکر کیا تو ایک فیکٹری کے مالک نے ان کو کہا که تم نے جلدی کیوں نهیں بتایا؟
اس فیکٹری میں جو جو مشینیں استعمال کرنی هیں استعمال کروں اور جہاں جهاں پیسوں کی ضرورت ہے بتاؤ ـ
تکنیکی ذهن رکھنے والے ادمی کو هی اس خوشی کا ادراک هو سکتا هے
که ایک جدید ترین فیکٹری کی خراد مشینیں اور اوزار آپ کی دسترس میں هوں
جاپان میں اوساکا کا علاقه ایسا هے که یہاں کے لوگوں کی عادتیں آپنے سندھی اور پنجابی لوگوں کی اج سے تیس چالیس سال پهلے والی عادتوں سے بهت ملتی هیں
ایک دوسرے سے ملنا جلنا ، هنسی مذاق ، ایک دوسرے کے خاندان کی نسلوں تک کا معلوم تعاون وغیرھ وغیرھ
شعله ون کے سیٹلائیٹ کو انهوں نے
مایدو
کا نام دیا هے مائیدو کا لفظ اوساکا کے علاقے کی بولی میں شکریے کے لیے استعمال هوتا هے اور دوسرے جاپان میں بھی ـ
اردو میں اس لفظ کا تاثر کچھ اس طرح بنے گا
بڑی مہربانی جی !ـ آپ هماری دوکان پر ائے ـ
ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے جوانوں سے محبت کا یه انداز جو اس فیکٹری مالک نے اپنایا ہے آپ کی کیسا لگا ؟؟
مجھے بڑا اچھا لگا ہے جی
مائیدو کے علاوھ پانچ دوسرے سیٹلائیٹ بھی اس راکٹ پر رکھ کر بھیجے گئے هیں
یه چھ سیٹلائیٹ پرائیویٹ فیکٹریوں اور یونورسٹیوں اور عام لوگوں کے تیار کردھ هیں
یاد رهے
جاپان کی یونیورسٹیاں بہت تحقیقی کام کرتی هیں
اتنے زیاھ که اردو میں جو جاسوسی ناولوں میں ترقی یافته اقوام کی خفیه ایجنسیوں کے سنسنی خیز خفیه منصوبے هوتے هیں ناں جی
ان سے کچھ بڑھ کر هی کام هوتا هے جاپان کی یونورسٹی میں ـ
میری بیوی می یو کی بھی جاپان کی ایک مشهور تکنوکی یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہے
اس کے طالب علمی کے دنوں میں مجھے کئی دفعه اس کے ساتھ یونورسٹی جانا هوا تھا
یارو حیرتوں کا ایک سمندر ہے
سوچ رکھنے والوں لیے ـ
جاپان سے اس دفعه بھیجے جانے والے یه چھ سیٹلائیٹ بہت سے سیٹلائیٹوں میں سے چنے گئے سیٹلائیٹ تھے
جی هان پرائیویٹ سیکٹر میں اتنا کام هو رها هے که پاک لوگوں کی حکومت بھی اتنا نہیں کرسکتی
بس جی جب اپ ایک انجنئیر کو
اوئے لوهارا
کہـ کر پکاریں گے تو امریکه لوهار کو ویزھ بھی دے گا اور اس صاحب کہـ کر پکارے گا اور پیسے بھی دے گا تو
لوهار کا دل تو وطن کے لیے دھڑکے گا مگر اس کی صلاحتیں کسی اور کے کام آئیں گی
عام بشریت کی زد میں هیں گردوں
اور هم نے اس بات پر بحت میں گزار دیے که جی رسول بشر تھے که نہیں
بشریت کی زد میں گردوں کو لانے کا معامله تو بهت بعد میں ائے گا
پہلے بشریت کی ڈیفینیشنز تو مقرر کرلیں جی
آپنے ایمپورٹیڈ دھرم کے ٹھیکیدار ـ
یاد رهے خلا میں باریک زرات بھی تیر رهے هیں جو سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اس سوراخ کر دیتے هیں
اس سے بچاؤ کی تکنیک پر بھی کام هو رها هے
جیسے که فائبر کا نمدا که ذرات اس میں الجھ کر ره جائیں سوراخ ناں کریں ـ
شائد قرآن میں جو اسمان کی خبریں لینے کی کوشش کرنے والے شیطانوں پر شعله لپکنے کی بات ہے وه ان زرات کی هی ناں هو ـ
او نئیں جی !!ـ
اے گل نهیں لکھنی مولوی مارن دے ـ
هم خود ساخته جلا وطن لوگوں کی اکثریت کا شروع میں یہی خیال تھا که چار پیسے کما کر اپنے وطن میں زندگی گزاریں گے ـ
مگر اپنے وطن کو حالات کی مسلسل خراب هوتی حالت نے هماری سوچ اتنی بدل دی ہے که همیں اب اپنا وه ارادھ هی بھول گیا ہے که کبھی هم نے پاکستان میں بسنے کا سوچا تھا ـ
اب تو یه حالت ہے که باهر کے ممالک میں مکان خرید لینے اور کسی ملک کی نیشنیلٹی مل جانے کو بھی فخر سمجھنے لگے هیں ـ
لیکن یارو پاکستان جا کر بسنے کی ایک چنگاری حالات کی راکھ میں دبی رهتی هے
کبھی کبھی اگر یه چنکاری شعله بنے بھی لگے تو پاکستان گے سیاسی حالات اس پر پانی ڈال کر جاتے هیں ـ
نواز شریف کی پہلی وزارت عظمی کے دنوں میں یه چنگاری میں نے شعله بنتے دیکھی ـ
ان دنوں میں دنیا کی سیاحت پر نکلا هوا تھا
ملک ملک پھر رها تھا که جہاں کسی پاکستانی سے ملاقات هوتی تھی اس کے منه سےنکلتا تھا که
جی میں اب پاکستان منتقل هونے کا سوچ رها هوں
که کاروباری حالات ٹھیک هی گئے هیں ـ
کتنے هی لوگوں نے مجھے بتایا که انہوں نے پیسا پاکستان منتقل کرنا شروع کر دیا ہے ـ
اور پاکستان میں حالات یه تھے که مزدوروں کے پاس وقت نہیں تھا
ٹریکٹر ٹرالی پر مٹی ڈھونے والے کمہاروں کو مٹی کھود کر ٹرالی میں ڈالنے والے مزدور نہیں مل رهے تھے
دوکان دار اور دوسرے کاروباری جو که باهر سے آنے والوں كو رشک كی نظر سے دیکھتے هیں انہوں نے بھی کہنا شروع کردیا تھا که جی
هم تو جی اپنے ملک میں هی مطمعن هیں ـ
محلاتی سازشوں نے نواز شریف کی حکومت گرا دی
اور حالات پھر خراب هونے لگے
بعد میں نواز شریف کو بھی موقع دیا تو گیا مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہـ چکا تھا
که شریفین کی کرپشن کی بھی اڑنے لگیں ـ
عام بندے کے حالات خراب سے خراب تر هونے لگے
اور باهر والوں نے پھر سے انہی ملکوں میں ٹکنے کو بهتر جانا ـ
لیکن ایک بات میں نے ان تارکین وطن میں هر دور میں دیکھی ہے که جس ملک میں رھ رہے هوتے هیں اس ملک سے زیادھ پاکستان کے حالات پر نظر رکھتے هیں ـ
ان کے دل پاکستان میں رہنے والوں سے زیادھ پاکستان کے لیے دھڑکتے هیں ـ
جب بھی کہیں محفل لگتی هے تو پاکستان گے سیاسی حالات هی موضوع هوتے هیں ـ
پاکستان سے تارکین کی اس محبت کو چالاک لوگوں نے اپنی اپنی سی سکت کے مطابق کیش بھی کروایا
که کسی نے
مذھبی ادارے کے نام پر پاکستان کے حالات کو سنوانے کی امید دلا کر هر ملک میں اپنی اولاد کے لیے جائیداتیں بنائیں ـ
تو کسی نے هسپتال کے نام پر
یه هسپتال کے نام پر چندھ اکٹھا کرنا تو جی بہت هی اسان ہے
که ان تارکین وطن لوگوں کے گھر والوں نے جنہون نے ان کو طرح طرح سے بیوقوف بنا کر پیسے بٹورے هوتے هیں
جب دیکھتے هیں که اب باهر والے پیسے بھیجنے میں ہچکچانے لگے هیں تو ماں کی بیماری کو بہانه بنا کر پیسے منگوانے لگتے هیں
اس لیے باهر والے سارے هی لوگ اس بات پر پیسے دینے پر فوراً راضی هو جاتے هیں که جی
غریب لوگوں کا علاج مفت هو گا
کیونکه انہوں نے اپنی ماں کے علاج پر اٹھنے والا بے بہا خرچ دیکھا هوتا ہے
حالانکه وه پیسے بھائوں بہنوئیوں اور رشته داروں کی عیاشیوں پر خرچ هو چکے هوتے هیں ـ
هسپتال میں مفت علاج هو هی نہیں سکتا !!ـ
دوائیوں پر خرچ ائے گا هی تو ڈاکٹر کا گھر کیسے چلے گا ؟؟
عمارت کی مرمت وغیرھ کا بھی خرچ هوتا ہو تو جی مشینوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی
اس لیے جب لوگ عمران خان کے هسپتال میں جاتے هیں تو مایوس هو جاتے هیں که
عمران خان نے تو غریبوں کے لیے هسپتال بنایا تھا
تو اب یه پیسے کس لیے مانگ رها هے ؟؟
میں یه ساری باتیں اس لیے لکھ رها هوں که
همارے ایک بڑے هی مہربان دوست هیں جی
میاں عظمت صاحب

میاں صاحب ، فیض میان ٹریڈنگ کے نام سے جاپان میں کاروبار کرتےهیں
میاں صاحب ایک مضبوط کاروباری حثیت کے مالک هیں
دو دن پہلے ان کے ساتھ بیٹھے تھے که انہوں نے یه بات چھیڑ دی که پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاهیے ـ
میاں عظمت کے بڑے بھائی میاں سلیم یہاں مسلم لیگ ن کے بڑے سرگرم کارکن هیں جی !ـ
میں نے ان کے سر کو ھاتھ لگا کر تو نہیں دیکھا که کتنا گرم ہے
لیکن مسلم لیگ ن کے لیے ان کے لہجے میں کافی گرمی هوتی هے اس لیے هو سکتا ہے که سر بھی گرم هو ـ
میان عظمت صاحب کیونکه کاروباری هیں اس لیے ان کو کسی سیاسی پیلٹ فارم میں صرف پیلٹیں هی پلیٹیں نظر اتی هیں ـ
پچھلی نشست میں میان صاحب کی گفتگو میں ایک درد تھا که جی پاکستان گو لیے کچھ کریں
ان کے خیال میں همیں جاپان میں رہنے والوں کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی بجائے خود سے یه کام کرنا چاهیے که
که کچھ لوگ ایک جگه اکھٹے هو کر اس طرح کریں که پیسے اکھٹے کر کے پاکستان میں کہیں فیکٹری یا مل لگائیں که ایک تو لوگوں کو کاروبار میسر هو گا اور دوسرا پاکستان میں کوئی تکنیک بھی جاگے گی ـ
میں نے پوچھا که پاکستان میں کہاں ؟؟
تو ان کا جواب تھا که کہیں بھی !!ـ
جاں سب مل کر فیصله کر لیں
ضروری نهیں که میرے گاؤں میں !ـ کہیں بھی !!ـ
ان کے خیال میں جاپان کے کاروباری لوگوں کے لیے ایک ملین ین کوئی بڑی رقم نہیں هے
اور اگر ایک سو ادمی مل کر ایک ایک ملین ین ڈالیں تو سو ملین ین سے کافی بڑا پروجیکٹ شروع کیا جاسکتا ہے ـ
یاد رہے که ایک ملین ین کے پاکستانی روپے بنتے هیں ساڑھے آٹھ لاکھ !ـ
میان صاحب کے یه خیالات بتارہے هیں که ان کے اندر کی اس آگ کو کوئی کسی دن کیش کروانے کے لیے اجائے گا
اور ان سے چندے کے نام پر پیسو بٹور لے گا
چاهے ایک دو ملین ین سے میان صاحب کوکوئی فرق ناں بھی پڑے
لیکن ـ ـ ـ ـ ـ
آج ہمیں جن کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا، وہ ایک نہایت ہی خوش مزاج اور صاف گو شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے اردو بلاگنگ کا آغاز 2004کے آخر میں کیا۔ اور اب تک HYPERLINK “http://khawarking.blogspot.com/” اردو بلاگنگ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ HYPERLINK “http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D8%A7%D8%B1%D9%81:%D8%AE%D8%A7%D9%88%D8%B1″ اردو وکی پیڈیا پر بھی کافی متحرک رہے۔
تو آئیں وقت ضائع کیے بنا HYPERLINK “http://khawar.riereta.net/” خاور کھوکھر سے ملتے ہیں۔
خوش آمدید خاور
خاور سب سے پہلے ہم آپ سے اردو اور اردو بلاگنگ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔
1۔ یہ بتائیں کہ آپ نے اردو بلاگنگ کب شروع کی؟
دو ہزار چار میں !ـ باقاعدھ بلاگ سپاٹ پر اکاؤنٹ تو نومبر میں بنایا مگر کچھ پوسٹیں اس سے کچھ ما پہلے لکھی تهیں ـ
2۔ آپ کو اردو بلاگنگ کا خیال کیسے آیا اور اس وقت اردو بلاگنگ میں کن مسائل کا سامنا رہا؟
انٹر نیٹ پر بلاگ کا نام پڑھا تها تو خواهش هوئی که بلاگ بنایا جائے ـ
مگر کیسے اور کہاں تو اس بات کا علم هوتے هوتے کتنے هی ماھ گذر گئے ـ
آپنے اندر کی آگ اگلنے کا کوئی راسته تلاش کرتے هوئے بلاگر بن گئے مگر جب لکھنا شروع کیا تو ایک ذمه داری کا احساس هوا که کچھ تہذیب میں هی رھ کر لکھنا چاهیے ـ
3۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا؟
جب لکھنا شروع کیا تھا تو اس بات کی تو امید هی نہیں تھی که انے والے چار سال میں کوئی میری تحاریر کو سرچ انجن پر ڈهونڈ بهی پائے گا ، یا اردو کو پڑهنے والا بهی کوئی هوگا ـ
بس اندر سے لکھنے کی تحریک پیدا هوتی ہے تو لکھنے لگتے هیں
اب کسی کو سمجھ لگے یا نہیں کسی کو ناگوار گذرے تو تھوڑی سی معذرت ـ
4۔ جیسا کہ آپ وکی پیڈیا پر بھی کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں، کچھ اس بارے میں بتائیں کہ کیسے شروع کیا اور کیا اب تک وہاں کام کر رہے ہیں؟
وکی پیڈیا پر میں نے بلاگ بنانے سے بهی پہلے لکھنا شروع کردیا تھا ، ایک تو اس لیے بهی کی اردو کے وکی پیڈیا کو شروع کرنے والے صاحب کو که اعلی حضرت کهلواتے تهے ان کا رویه بهت اچھا تها
اور باقی اس بات کی بهی خواهش تهی که کچھ نام بن جائے که ہم بهی کچھ مثبت کام میں حصے دار هیں ـ
اور اس وقت مجھے خوشی هوتی هے که وکی پر کافی اهل علم مل کر کام کر رهے هیں اور مجھ جیسا کم تعلیم یافته بندے کا نام بهی ان لوگوں کے ساتھ اتا ہے ـ
وکی پر اس وقت میں سب سے پرانا هوں مگر باقی سب لوگ جو کام کر رهے هیں وه لوگ عظیم هیں که اپنے وقت سے وقت نکال کر مفت میں اردو کی خدمت کر رهے هیں ـ
5۔ آپ کے خیال میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اردو اپنا مقام کب اور کیسے حاصل کرسکے گی؟
جب اردو پڑهنے والوں کی قوت خرید پڑھ جائے گی ـ که اردو میں بنے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بنے سوفٹ وئر خرید سکیں گے تو یه کمپنیاں اور بهی بنائیں گی اور اردو کی ٹیکنالوجی کے میدان میں بهی ترقی هو گی ـ
اردوجاننے والے ٹیکنیشن پیدا کرنے سے اردو ترقی نهیں کر سکے گا که یه ٹیکنیشین اپنی تکنیک کے ساتھ کسی اور ملک کی کسی اور زبان کے لیے پیسے لے کر کام کرنے لگيں گے ـ
6۔ اگر آپ سے کہا جائے کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے مختصر بیان کریں تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ایمان داری کی بات تو یه ہے که میں نے اردو کے لیے کچھ بهی کام نہیں کیا هے
اردو کے لیے کام کرنے والے لوگ ایک تو وه هیں جو وکی پیڈیا پر کام کر رهے هیں اور دوسرے هیں
اردو محفل والے ـ
میں ان کے نام نهیں لکھوں گا که جن کے نام رھ جائیں گے ان کو برا نه محسوس هو ـ
7۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے؟
هاں !ـ که روم ایک دن میں نہیں بن گیا تھا
اردو ٹیک میں بدتمیز اور رانا اچھا کر رهے هیں اور آپ سب لوگ بھی که ایسے کام کرنے سے شائد عام ادمی کی دلچسپی کا کوئی پہلو نکلے اور زیادھ لوگ انٹرنیٹ پر اردو پڑھنے لگیں ـ
که زیادھ قاری هی لکھاری کو لکھنے پر اکساتے هیں ـ
8 ۔ مستقبل میں کیا منصوبے ہیں؟
هزاروں خواهشیں ایسی که هر خواهش په دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں مگر ذرا کم نکلے
پاکستان میں بھیڑوں کا فارم بنانا چاهتا هوں ـ
مچھلی کے پونگ کی فارمنگ میں جاپان سے تکنیک پاکستان لے کر جانا چاهتا هوں ـ
بغیر بجلی کے چلنے والی موٹر کی ایک تھیوی هے میرے ذہن میں اس پر تحقیق کرنا چاهتا هوں
گوجرانواله کو ایک لائیبریری دینا چاهتا هوں ـ
ایک لمبی لسٹ ہے
اور مجحبوریوں کا ڈهیر ـ
9۔ اردو بلاگرز یا جو اردو کی ترجیح کے لیے کوشاں ہیں، ان کو آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
ابن بطوطه کے زمانے میں سیاحت کرنے والے اور بهی بہت تهے مگر اس نے لکھ کر دیا اس لیے اس کا نام باقی ہے
آپ بهی لکھتے رهیں که کسی دولت مند کانام رہے یا نه مگر آپ کا نام رہےگا ـ
اسی کو امرت کهتے هیں
جو آدمی کو امر کردیتا ہے
10۔ پرانے اور نئے بلاگرز میں کون پسند ہے؟ کسے شوق سے پڑھتے ہیں؟
ایک متنازعه سوال ہے اس کا جواب دینے سے کچھ لوگوں کی خوصله شکنی هو گی ـ
خاور، یہ تو تھے کچھ رسمی سوالات جن سے قارئین کو آپ کی بلاگنگ اور دوسرے پروجیکٹس کے حوالے سے آگاہی ہوئی، ان سوالات کے جواب پڑھ کر یقیناً ہمارے قارئین کو آپ کی ذات کے بارے میں بھی کچھ جاننے کا تجسس ہوا ہو گا،
تو آئیں کچھ منفرد سوالات کرتے ہیں۔ امید ہے آپ بھی انجوائے کریں گے۔
پہچان:
1۔ آپ کا نام؟
غلام مصطفے
2۔ آپ کی جائے پیدائش؟
تلونڈی موسے خاں گوجرانوله
3۔ آپ حالیہ قیام کہاں ہے؟
سائتاما کین کازو سٹی جاپان
4۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
ابهی تو جی اپنے آپ کو سٹینڈ کرنے هی کی کوشش میں لگے هیں ـ
مگر کچھ ایسا کرنے کو جی چاهتا ہے که مرنے کے بعد بهی لوگ اچھے لفظوں میں نام لیں ـ
5۔ اپنے پس منظر اور اپنی تعلیم کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں گے؟
میں میٹرک پاس نهیں کر سکا تھا
اور اٹو ایکٹریشن کے کام کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل مرمت کام سیکھا هے
باقی اور بهی کئی تکنیک جانتا هوں ـ
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟
قرآن ـ
2۔ گانا ؟
پنجابی لوک گانے
3۔ رنگ ؟
سرخ
4۔ کھانا )کوئی خاص ڈش( ؟
سبهی بس حرام نهیں هونے چاهیے
5۔ موسم
گرمیاں ــ
غلط/درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کی عادت ہو گئی ہے؟
نہیں ـ
2۔ میں بہت شرمیلا ہوں؟
نہیں ـ
3۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
نہیں ـ
4۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے؟
هاں !ـ
5۔ مجھے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے؟
هاں !ـ
6۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق ہے؟
هاں !ـ
7۔ میں ایک اچھا دوست ہوں؟
هاں !ـ
8۔ مجھے غصہ بہت آتا ہے؟
نہیں ـ
آپ کے خیال میں:
1۔ سوال کرنا آسان ہے یا جواب دینا؟
سوال کرنا !ـ
2۔ بہترین رشتہ کون سا ہے؟
بھائی کا ، اگر بھائی دوست بهی هوتو ـ
3۔ آپ کی اپنی کوئی ایسی عادت جو آپ کو خود بھی پسند ہو؟
دوسروں کے کام آنا ـ
دلچسپی:
1۔ شاعری سے؟
هاں !ـ
2۔ کوئی کھیل؟
میں کراٹے میں بلیک بیلٹ هوں ـ
3۔ کوئی خاص مشغلہ؟
پڑھنا ـ
برا:
1۔ زندگی کا کوئی لمحہ؟
کئی هیں ـ
2۔ دوسروں کی کوئی ایسی بات جو آپ کا موڈ خراب کر دیتی ہو؟
خود کو عقل کل سمجھنے والے ، جھوٹے اور مغرور لوگوں کی باتیں ـ
3۔ دن کا وقت؟
کوئی نهیں !ـ
کیا آپ :
1۔ اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا؟
هاں مگر پته نهیں !ـ
2۔ جدیدیت کے قائل ہیں؟
هاں !ـ
3۔ آزادئ نسواں کے حق میں ہیں؟
نهیں !ـ
کوئی ایک منتخب کریں :
1۔ دولت، شہرت یا عزت؟
عزت ـ
2۔ بالی وڈ، لالی وڈ یا ہالی وڈ؟
هالی وڈ ـ
3۔ پسند کی شادی یا ارینج شادی؟
دونوں کی هیں ـ
4۔ مینارِ پاکستان یا ایفل ٹاور؟
ایفل ٹاور !ـ
6۔ پاکستان، امریکہ یا کوئی یورپین ملک؟
جاپان ـ
خاور،اپنا قیمتی وقت نکال کر منظر نامہ کے لیے جواب دینے کا بہت بہت شکریہ۔
پچھلی صدی کے آخری سالوں میں سے پچانوے کی بات ہے
جب میں نے پہلی بار انٹرنیٹ کا نام سنا تھا ـ
جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے کا ایک پروگرام تھا چینل تین پر جس میں ایک غیر جاپانی بندے سے سوال پوچھے جارہے تھے
که انٹر نیٹ ہے کیا اور یه کیسے کام کرتا ہے
اور ای میل کیا هے میں نے یه پروگرام بڑےغور سے دیکھا مگر ایمان داری کی بات یه ہے که بہت سی باتیں سر پر سے گذر گئیں ـ
مگر اس بات کا اندازه هوا که بہت سے کمپیوٹروں کو ایک نیٹ ورک پر لگانے کو انٹر نیٹ کہتے هیں ـ
اس وقت تک بہت سے کمپیوٹروں سے میری مراد میرا اندازھ تھا که دس سے پچاس کمپیوٹر
لیکن اج مجھے اپنے اس اندازے ہنسی اتی ہے ـ
اس پروگرام کو دیکھے دوسرے هی دن اپنے ایک دوست نے بڑے طنزیه انداز میں پوچھا تھا که کیا تم کو انٹر نیٹ کا معلوم ہے ؟
میں نے اس یه بتا کر که هاں کچھ کمپیوٹروں کو ایک نیٹ ورک پر لانے کو انٹر نیٹ کہتے حیران کر دیا تھا ـ
پچانوے هی میں میں پہلي دفعه کوریا گیا تھا جہاں کو تھاکے ماسا یوکی نام کے ایک جاپانی سے ملاقات هوئی جو که بڑھتے بڑھتے دوستی میں بدل گئی ـ
یه میرا آوارھ گردی کا زمانه تھا یا اچھے لفظوں ميں سیاحت کا زمانه کہـ لیں ـ
اس طرح یه هوتا تھا که جس شہر میں بھی دوست هیں مجھے هی ان سے رابطه کرنا پڑتا تھا که کیوں که میرا تو کوئی ایڈریس یا فون نمبر تھا هی نہیں تو کو تھاکے نے کہا که کیوں نہیں تم ایک ای میل ایڈریس بنا لیتے ؟
اس وقت تک ای میل ایڈریس کے متعلق میرا خیال تھا که فون کی طرح ماهانه کچھ دینا پڑتا هو گا
لیکن کو تھاگو نے بتایا که نہیں یه بلکل هی مفت ہو بس جب تم کہیں انٹرنیٹ استعمال کرو گے وهاں ادائیگی کرنی هو گہ جو کافی سے زیادھ سستی ہے ـ
تو جی اسطرح مجھے کو تھاکے نے بنا کر دیا میرا پہلا ای میل کا ایڈریس
جو که
allha@hotmail.com
تھا ـ یه ایڈریس کوتھاکے کے کھر پر هی بنایا تھا ـ اس ایڈریس کو ختم هوئے سالوں هوئے که میں کچھ سال اس ایڈریس کو کھولنے سے معذور رها ـ
انہی دنوں بنایاهو یاهو کا یه ایڈریس میں ابھی تک استعمال کررها هوں ـ
ellha@yahoo.com
فروری ننانوے میں میں اپنا پہلا کمپیوٹر خریدا تھا یا یه کہـ لیں که ایک دوست نے اسمبل کر کے دیا تھا
اس میں ونڈوز اٹھانوے انسٹال تھی ـ
اور انہی دنوں میں اپنا پہلا هوم پیج بھی بنایاتھا جو که ایک فری هوسٹ پر بنایاتھا اور بھر وه هوسٹ بھی اور سائیٹ بھٍی ختم هو گئی ـ
اس صدی کے پہلے سال یعنی سن دوهزار کے اپریل میں میں نے پہلا ائی میک خریدا تھا ـ
جس میں پہلی دفعه ڈی وی ڈی آئی تھی
ان دنوں هی پہلی دفعه میں نے هوم پیج بنانے کا طریقه کسی حد تک ایک جاپانی جوڑے سے سیکھا تھا جو که فرانس میں سیر کے لیے آئے هوئے تھے که دوستی سی هوگئی ـ
فٹبال ٹیموں کی وردیوں کی اون لائین شاپ بنانے کا بھی شوق چرایا تھا مگر تکنیکی مہارت نه هونے کی وجه سے یه بیل منڈھے نه چڑھ سکی ـ
دوہزار تین میں میں نے یه هوم پیج بنایا تھا
khawar.riereta.net
سپین کے صوبه کتلان کے شہر بارسلونا میں ملاقات هوئی تھی جی ایک گروپ سے جن کا هوم پیج ہے
http://riereta.net
اس گروپ میں لاطینی امریکه کے ممالک کے لوگ بھی تھے تو انگریز اور فرانسیسی بھی امریکی بھی تھے تو میں ایک مسلمان بھی ـ
میں نے ان لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان لوگوں سے دوستی اور واقفیت پر فخر کرتا هوں ـ
یونکس کی سپورٹ کرنے والے اور یونکس کو ایک مسلک کی طرح ماننے والے یه سب لوگ ایک دوسرے سے بهت مخلص تھے ـ
یہیں ایک اسٹریلوی سے مشورے سے میں میکنتوش پر اردو لکھنے کے قابل هواتھا
اورپھر دوہزار چار میں میں اردو کے وکی پیڈیا میں شامل هوچکا تھا
مجھے فخر ہے که اس عظیم پروجیکٹ میں میں بھی شامل هوں اور اس میں کام کرنے والے عظیم لوگوں کی لسٹ میں میرا کم مایه کا نام بھی لکھا جاتا ہے
اردو میں بلاگ لکھنا شروع کیا تھا
دوهزار چار کے اخری دنوں میں جو که اب بھی جاری ہے
اس بلاگ پر سب سے بڑا شکوھ هوا کرتا تھا ڈبے بننے کا مگر اب جب که مائیکروسوفٹ کی تکنیک ترقی کر گئی ہے تو وهی تحاریر جو که ڈبے بن جایا کرتی تھیں اب ٹھیک نظر آتی هیں ـ
دوهزار آٹھ کے چھٹے مہینے کی چھٹی تاریخ کو میں نے بنایا ہے یه دومین
http://gmkhawar.com
اس کو آپ جی ایم خاور بھی پڑھ سکتے هیں اور
غمخوار بھی ـ
غمخوار ڈاٹ کوم !ـ کیسا ہے ؟؟
ایک سوال تھا که
آپ کس شخصیت سے ملنا چاهتے هیں ؟
ان دنوں میں جس شخصیت سے ملنا چاهتا هوں وه هیں جی
فُجی مورا سینسے!ـ
سینسے کهتے هیں جاپانی میں استاد کو !ـ
فوجی مورا صاحب ایک سائنسدان هیں !ـ
تھوچی گی کین میں ناسو شہر کے رہنے والے هیں ـ
ان کو شمالی جاپان کا ایڈیسن بھی کہتے هیں ـ
فجی مورا صاحب کی کتنی هی چھوٹی چھوٹی ایسی ایجادات هیں که جو روزمرھ کی زندگی کو اسان کرتی هیں
انهوں نے ایک ایسی فریج ایجاد کی ہے جو که بغیر بجلی کے چلتی هے ـ
جی بغیر بجلی کے !ـ یعنی که شمسی بجلی بھی استعمال نهیں هوتی اس میں ـ
میں اس تکنیک کی باریکی کو تو نہیں سمجھتا لیکن یه کچھ اس طرح کی تکنیک ہے
جیسی که همارے کمہار لوگ ایک برتن جس کو پنجابی میں چجر کہتے هیں میں استعمال کیا کرتے تھے ـ
چجر ایک دیسی قسم کی فریج هی هوا کرتی تھی
یه برتن جو که گھڑے کی هی شکل کا هوتا تھا مگر اس میں استعمال کی گئی مٹی کو ایک خاص طریقے سے گوندھ کر بنایا جاتا تھا که یه برتن کتنی بھی دھوپ میں کیوں نه رکھا هو اس میں پڑا پانی حیران کر دینے کی حد تک ٹھنڈا هوا کرتا تھا
اسی طرح فجی مورا سینسے کی بنائی هوئی یه فریج اپنے اندر کے درجه حرارت کو پانچ درجه سینٹی گریڈ پر برقرار رکھتی هے ـ
پچھلے دنوں فجی مورا سینسے نے اس طرح کی ایک فریج منگولیا کے دیهاتی علاقے میں بنا کر دی هے
جس کا سائیز کچھ مربع میٹر تھا
دنیا کے چھبیس ممالک سے فجی مورا صاحب کو دعوتیں ملی هوئیں هیں که ان کے ملک میں بھی کچھ بنا کر دیں ـ
ان ممالک میں پاکستان شامل نهیں هے
کیونکه پاکستان کے حکومتی لوگوں میں اتنی عقل هوتی توط اج کیا ملک کا یه حال هوتا ؟؟
بہرحال
مجھے اگر مقدور هوتو میں چاهتا هوں که فجی مورا سینسے مجھے ایک کولڈ سٹوریج بنا دیں پاکستان میں ناں بجلی کا خرچا اور ناں لوڈ شیڈنگ کو چخ چخ ـ
ہینگ لگے ناں پھٹکڑی رنگ بھی آئے چوکھا
لیکن اس کو چلائے گا کون؟؟
فجی مورا سینسے کی ایک تصویر

مجھے ابھی یہی ایک تصویر ملی هے
کچھ دن پہلے کی بات ہے که ٹی وی پر ایک پروگرام چل رها تھا
جس میں جاپانی مہارتوں کی بات هو رهی تھی
میں نے اس پروگرام کو شروع سے نہیں دیکھا
لیکن جہاں سے میں نے دیکھنا شروع کیا تھا اس میں بتا رهے تهے که
جاپان کے پلوں پر جلنے والی بجلی کیسے پیدا هوتی هے ـ
یاد رہے که جاپانی لوگ بجلی کے استعمال میں انتہائی کفایت شعاری سے کام لیتے هیں ـ
جاپان میں پلوں پر ایک محراب سی بنی هوتی هے جو که پل کا هی ایک حصه هوتی هے اور پل کا سہارا بھی ـ
اس محراب نما پر لائیٹیں جل رهی هوتی هیں ، نه صرف رات کو بلکه اگر دن کو بھی بادل گھر کر آئیں تو یه لائیٹس جل جاتی هیں
جاپان میں پلوں پر پل کے نچلی طرف ایک ڈبه لگا دیتے هیں جو
گاڑیوں کے گزرنے سے جو تھرتھراهٹ هویتی هے اس سے بجلی پیدا کرتا ہے
اور اس کے ساتھ لگی بیٹریاں بجلی کو محفوظ رکھتی هیں
یه تکنیک ابھی تک اس جاپانی کمپنی کا کاروباری راز ہے
جو که یه کسی کو دینا نہیں چاهتے
لیکن سانوں کی جی ؟؟؟
ہمیں تکنیک کی ضرورت هی نہیں ہے
هم تو جی تکنیشین کو کمّی اور کمینه کهتے هیں ناں جی
اس لیے جاپان کے لوهاروں کو ہم کیا سمجھتے هیں ـ
کتنی بھی ترقی کرلیں هیں تو لوهار هی ناں جی ؟؟
جاپان کی وزارت خزانه کے ملازمین کی رشوت کا بڑا چرچا چل رها ہے ٹیلی وژن پر
اس وزارت کے ملازمین کو حکومتی خرچے پر ٹیکسی استعمال کا استحقاق حاصل هے اس لیے یه لوگـ لمبے سفر کے لیے بھی ٹیکسی استعمال کرسکتے هیں
اور ٹیکسی ڈرائیور بھی اسیے گاهک چاهتے هیں جو که ایک هی دن میں کچھ سو ڈالر کا بل بنا دیں ـ
اس لیے ٹیکسی ڈرائیور لوگ ان ملازمین کو بئیر کی پیشکش کیا کرتے تھے جو که یه ملازمیں قبول کر لیا کرتے تھے
پھر اہسته آہسته یه هونے لگا که حکومتی ملازمین خود سے پوچھنے لگے که
بئیر بھی دو
اور کچھ ٹیکسی ڈرائیور وں کو تو نقدی کے لیے بھی پوچھا جانے لگا
یه جاپان هے کمیوں(ہنر مندوں) کا ملک که فوراً رشوت لینے اور دینے والوں کو قابو کر لیا گيا ہے ـ
جاپان کے جنوبی علاقے کی ایک کین او ای تا کین میں محکمه تعلیم کو ملازمین بھی رشوت لیتے هوئے پکڑے گئے هیں
یه لوگ سکولوں میں استادوں کی تعیناتی کے لیے رشوت لیا کرتے تھے
اس معاملے کو تو جاپانی لوگ بڑی هی سنجیدگی سے لے رهے هیں که محکمه تعلیم والوں نے کہیں ایسے استاد بھرتی نهیں کر لیے که جو اس بات کی اهلیت نہیں رکھتے
اب کیا یه جارها هے که ان رشوت لینے والوں کو تو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے تعینات کیے گئے سب استادوں کو بھی دوبارھ چیک گیا جارها ہے که یه لوگ واقعی استاد بننے کے اهل هیں یانهیں ؟؟
اولمپک میں سوئمنگ سوٹ کا معامله کچھ اس طرح چل رها تھا که جاپان کے تیراک جو که اولمپک میں شمولیت کی اهلیت رکھتے هیں ان کو سپیڈو نام کا سوئیمنگ سوٹ پسند تھا
لیکن اولمپک کمیٹی اس کو قبول نهیں کررهی تهی که جو سوٹ اولمپک کمیٹی کے منظور کردھ هیں صرف وهی استعمال کیے جاسکتے هیں ـ
مگر ان تیراکوں کا دعوھ تھا که سپیڈو کے سوئیمنگ سوٹ سے ان کی سپیڈ بڑھ جاتی ہے
کتنے هی ٹیسٹوں اور امتحانوں کے بعد اب اولمپک کمیٹی نے یه بات منظور کر لی ہے که
تیراک کوئی سا بھی سوٹ استعمال کر سکتے هیں ـ
تو مجھے انیس سو چونسٹھ کے اولمپک میں ننگے پیر بھاگ کر میراتھن میں گولڈ میڈل لینے والے افریقی کھلاڑی حبیبی صاحب یاد ائے
شائید ان کو بھی اسی لیے ننگے پیر بھاگنا پڑا تھا که حبیبی صاحب اولمپک کمیٹی کے منظور کردھ جوتے افورڈ نهیں کرسکتے تھے
یا
پھر حبیبی صاحب بھی ہمارے پینڈو لوگوں کی طرح ننگے پیر بھاگنے کے عادی تھے
آپ نے دیکھا هو گا که ہمارے پینڈوں کو جب بھی بھاگنا پڑے جوتے اتار کر ھاتھ میں پکڑ لیتے هیں ـ
احادثت کی ازسر نو تشریح کے نام پر بی بی سی پر ایک خبر شائع هوئی هے
اور یا پھر اردو کے ایک بلاگر راشد کامران صاحب نے اس موضوع پر لکھا ہے
لیکن میں اس کو احادیث کی از سر نو تشریع کی بجائے احادیث کے نام پر لکھی گئی کتابوں کی از سر نو تشریع کا نام دوں گا ـ
میں نے دیکها ہے که پاکستان میں اهل حدیث کہلوانے والے لوگ قران کے ساتھ ساتھ سنت اور حدیث پر بهی بہت زور دیتے هیں ـ
لیکن حقیقت میں ان لوگوں کے نزدیک احادیث صرف وهی هیں جو ان کے گمان میں احادیث کے نام پر لکهی گئی کتابوں میں ہیں
اور اس کے بعد سنت کو بهی احادیث کے ساتھ کچھ اس طرح مکس اپ کر دیتے هیں که قران کا علم رکهنے والا یه سوچنے پر مجبور هوجاتا ہے که اب ان کو سمجهانے کی ضرورت نہیں ہے
میرے نزدیک حدیث وه ہے که جو بات رسول نے اللّه کے پیغام کے نام پر بتائی
اور سنت وه هے جو اللّه کے رسول نے آپنی زندگی میں کر کے دیکهائیں ـ
جس نےحديث کی کتاب پڑھی ہوگی وہ خود يہ بتا سکتا ہے کہ نبی کے نام سے ایسی جھوٹی اور من گھڑت حديثيں منسوب کی ھوئی ہيں کہ پڑھ کر شرم آتی ہے
ان کتابوں میں روایات کے نام پر الله کے رسول سے ایسے ایسے بیانات دلوائے گئے هیں که مجهے تو یہی توهین رسالت لگتے هیں ـ
مسلمانوں کی ستم ظريفی يہ رہی ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف تعويذوں والي کتاب سمجھ رکھا ہے اور مسائل کے حل کے ليے من گھڑت احاديث نامی کتابوں کا سہارہ ليتے ہیں۔
جو لوگ احادیث کے نام پر لکھی گئی کتابوں پر اعتراظ کو مسلمانوں کے خلاف يہودی سازش سمجھتے ہیں ميرا ان سے سوال ہے کہ کيا آپ نے احاديث کی چند ايک کتابوں کا بغور مطالعہ کيا ہے؟
بعض احاديث پڑھ کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا اور آگر اپ اهل فکر هیں تو آپ پریشان هو جائیں گے کيا يہ کتابیں مسلمانوں نے اقوال رسول کے نام پرلکھی ہیں يا پھر کسی اور نے؟
اصل میں بات یه ہے که ہم پاکستان یا برصغیر کے مسلمانوںنے اسلام بهی ایمپورٹ کیا ہے
اور ہماری قومی عادت ہے که کوئی چیز ایمپورٹ کر گے بهی اس کی افٹر سیل سروس کے لیے پرزه جات بهی اسی ملک سے یا کسی اور ملک سے منگوانے کو ترجیع دیتے هیں بلکه باهر سے هی منگواتے هیں ـ
گاڑیان جاپان سے ایمپورٹ کر لیں اور پرزھ جات چین سے
ٹرانسسٹر ولائت سے آگیا اور پرزه جات سنگا پور سے
اسلام مکے مدینے سے منگوا لیا ور افٹر سیل کے لیے
سیّد لوگ منگوالیے ایران افغان ستان سے ـ
سلطان سلیمان کی بنائی سلطنت عثمانیه کے عروج کے دنوں میں ہمارا اسلام ترکی سے ٹیونگ کیا جاتا تها
اهل سنت کے نام سے بنا فرقه بنا كر تركی کے علماء کے تربیت یافته مقامی علماء هواکرتے تهے
پهر اب
ال سعود کے سعودی عرب سے ٹیونگ هوتا ہے جی همارا اسلام اور اهل حدیث کہلواتے هیں مقامی علماء ـ
سعودی عرب کی ایک هی پروڈکٹ ہے کھجور ، اور یه علماء کھجور کی تعریف میں احادیث سناسنا کر پھاوے هوئے جاتے هیں ـ
آج بهی برصغیر کے درودراز مقامات پر دیهاتی مولوی خطبے میں ترکی خلیفے کی درازی عمر کی دعائیں کرتے هیں ـ
جس خلافت کو ختم هوئے بهی زمانے هوئے ـ
هماراھ معاشره ہے که جہاں اج بهی لسانی بنيادوں پر مسجدوں کے جھگڑے ہیں، جہاں چندے کی تقسيم پر گروہ باہم برسر پيکار ہیں، مسجدوں کو عدالتوں ميں گھسيٹا جارہا ہے، جہاں پيچيدہ صورتحال ميں ايک ہی مسجد ميں دو دو نمازيں پڑھی جاتی ہیں، جہاں اسلام کے پيروکار بانی اسلام الله کے رسول کے قول فعل کے تضاد والی کتابوں کو احادیث کی کتابیں کہتے هیں
جہاں اسلام کے پيروکار، تبليغی جماعتيں، مذہبی سياسی افراد اور ملا لوگ اپنے تعصبات، سياسی رنجشوں اور لسانی جھگڑوں کا مظاہرہ کرتے ہوں،
جہاں ماحول کی آلودگی بارے پريشانی تو ہے ليکن ’صوتی آلودگي‘ پر توجہ هی نہ دی جارہی ہو وہاں پر ترکی حکومت کا يہ اقدام ، برصغیر کے مسلمانوں کےلیے شائد ٹیونگ ثابت هو ـ
مجھے يقين ہے کہ اگر غير جانبدارانہ اور بے لاگ تشريحات ہونگي
تو
اسلام کی حقانيت مزيد واضح ہو جائے گي۔ دوست ذہن ميں رکھیں کہ صرف تشريح کرنے کی بات ہو رہی ہے اور وہ بھی بذريعہ علما،
اور آپ گے پاس هر گھر میں قران تو ہے هی آپ اس کا ترجمه پڑھ کر اس کو کسوٹی بنا کر ترکی کی تشریحات کو پرکھ سکتے هیں که صحیع هیں که غلط ؟
اس کے بعد بھی ہر کسی کو يہ حق ہوگا کہ وہ ان تشريحات کو قبول کرتا ہے يا نہیں۔ يہ تشريحات ترکی کے علما کی رائے ہوگی، اور یه تشریحات اگر قرآن سے میل نہیں کهاتی هوں گی تو ہم سب کے ليے حجت نہيں ہوں گی
هاں تفرقه پسند مولوی کی بات دوسری ہے که اس بات پر بهی اچهل اچهل کر باتیں کرے گا اور پهر انهی کتابوں سے حوالے نکال نکال کر لوگوں کو لڑائے گا ـ
بھگت کبیر کا ایک شعر ہے
تن مٹکی ، من دھی ، سرت بلوھن ھار
کبیرا ماکھن کھا گیو چھاچھ پئے سنسار
جسم کو آگر ایک مٹکا سمجھیں تو دل کو دھی اس جسم کے مٹکے میں دل کے دھی کو ڈال کے عقل کی مدانی سے بلوھنے والے اس واردات کو کرکے مکھن خود کھا گئے اور لسی بیچارے لوگوں کے لیے رھ گئی ـ
میں ذولفقار بھٹو کو پسند کرتا هوں که اس کے دور میں غریب کو اپنی طاقت کا احساس هوا بھٹو بڑا بندھ تھا جی که تن کی مٹکی میں من کا دوھ بھی تھا اور بلوھنے والی عقل بھی اور یارو بھٹو خود تو سولی پر چڑھ کر لوگوں کے دلوں میں زندھ رھ جانے کا ماکھن خود کھا گیا ور اب
باقی بچی لسی اس کو بیٹی نے بھی پی اور اس کا جنوائی بھی پی رها هے
اگر بھٹو کی بلوهی هوئی لسی ناں هوتی تو کیا بے نظیر بے نظیر بن پاتی یا پھر زرداری صاحب کے زر کے طرح داریاں هوتیں ؟؟
اس کے بعد میں پسند کرتا هوں نواز شریف کو که اس کے پہلے دور میں پیلی ٹیکسی اور غریب کو قرضے دینے کے عمل نے لوگوں كو ایک طرح کی اسائیش دیکھائی تھی ـ
بعد میں تو جی بھاری مینڈک نے پھدک پھدک کر وه حال کیا که بقول منو بھائی کے پندرھویں ترمیم کی کوشش میں تھے که امیر المومنین هی بن جائیں ـ
پاکستان میں سیاست چالاکی اور عیاری کا نام بن کر رھ گئی هے
جمہوریت کے معنی هی بدل دیے گئے هیں
الکشن کو تو برداشت هی نہیں کیا جاتا
بس سلیکشن کی بات هوتی هے
اور مزے کی بات ہے که سب سے بڑا بھی اپنی سلیکشن کے لیے امریکه بادشاھ کے سامنے زانو تلمند هوتا ہے ـ
پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنے اندر عہدوں کی تنظیم کے لیے الیکشن کرواتی هی نہیں هیں ـ
بس جی گدی نشین صاحب (چئیر مین) جس کو سلیکٹ کر دیں وهی وه هوتا ہے جو اس کو بتادیا جاتا ہے ـ
اس دفعه کے ایلکشن کے بعد نواز شریف کی سیاست تو بڑی سیاست تھی که ججوں کی بحالی پر زور دے رہے تھے اور ایک اسی ایشو پر اتحاد بھی بنالیا تھا
جسٹس افتخار چوھدری صاحب کو ریپوٹیشن کچھ انصاف کرنے والے جج کی هے اور هیں بھی !!!ـ
اس لیے نواز شریف کی سیاست تھی که اگر افتخار چوھدری بحال هو جائے تو یه جج خود هی سوموٹو ایکشن لے کر مشرف کا وه ارڈنینس ختم کر دو گا جس کی رو سے زرداری صاحب ” پاک صاف هو گئے هیں ـ
اور اگر ججوں کی بحالی میں زرداری صاحب ٹال مٹول کرتے هیں تو بھی نقصان زرداری صاحب کا که مقبولیت میں فرق پڑے گا ـ
لیکن جی زرداری صاحب چھا گئے هیں
که ان کو معلوم تھا که پاکستان میں مج(بھینس) اس کی هوتی هے جس کے ھاتھ میں ڈانگ(لاٹھی) هوتی ہے
اس لیے انہوں نے اپنے لیے صدر پاکستان کا عہدھ مانگ لیا جی سلیکشن کرنے والوں سے !ـ
صدر جس کے پاس آٹھ ونجوں کی ٹوپی (آٹھونجا ٹو بی) بھی هے ـ
اب جی ساری مجوں(بھینسوں ) پر تو جی ڈانگ والے صدر صاحب کا قبضه هو گيا
باقی سارے اب کہیں کے که میری مج (بھینس) بوری (سفید) تھی ـ
اپنی اپنی مج بوری(مجبوری) کا رونا هو گا
اور کہتے پھریں گے که جی یه هماری مج بوری تھی اور وه اس کی مج بوری تھی پر یارو اب مج کالی هو یا مج بوری ان پر اٹھ ونجوں کی ٹوپی کا اور صدارت کی طاقت کا معامله ہے
کسی بندے نے اپنی ایک فیکٹری پر اپنے سالے کو مینجر رکھا هوا تھا
جو که منافع میں ڈنڈی مارا کرتا تھا
اخر کار جب مالک کو معلوم هوا تو اس نے اپنے سالے کو نوکری سے نکل جانے کا حکم دیا
اور کبھی منه ناں دیکھانے کا وغیرھ وغیرھ
سالا کہنے لگا که جی میں رات کو گھر پر آؤں گا اور باجی کے سامنے اپ سے بات کروں اپنی صفائی میں
رات کو سالا صاحب گھر گئے اور اپنی صفائی میں یه کچھ اس طرح بات کی
که جناب بھائی جان آپ بتائیں که جیسا اپ جانتے هیں میرے پاس اپنی کوٹھی ہے کار ہے ایک بڑا بینک بیلنس ہے
بازار میں کچھ پراپرٹی خرید کر دوکانیں بھی کرایے پر دی هوئی هیں ـ
که هر طرح سے میں ایک خوش حال زندگی گزار رها هوں
اور میں نے یه سارا اپ کی فیکٹری کی کمائی سے هی بنایا هے
اب اکز اپ مجحے نكال دیتے هیں اور ایك نیا مینجر رکھتے هیں تو جناب اس مینجر کو یه سب نئے سرے سے بنانا پڑے گا
اور وه نئے سرے سے ڈنڈی مارے گا
تو جناب اپ مجھے هی مینجر رہنے دیں
که میں اتنی ڈنڈی نہیں ماروں گا جتنی که ایک نیا والا مینجر ـ
تو جی اس حکایت کی روشنی میں دیکھیں تو جی زرداری صاحب کے پاس پاکستان کا دیا سب کچھ ہے اس لیے هو سکتا ہے که اب یه صاحب ڈنڈی ناں ماریں که پہلے هی ” رجے ” هوئیے هیں ـ
سب سے بڑی بات یه هے که فوجی تو نہیں هیں ناں جی ؟؟
لیکن
یارو
امریت سے جان چھوٹی ہے اور استعمار کے پنجے میں پھنس گئے هیں ـ
میری قوم کی بد قسمتی هے که ان کو جمہوریت کی تعریف بھی معلوم نہیں هے ـ
استعمار کو جمہور کے نمائندے سمجھ کر مج بوری کی لسی پئے اونگھ رہے هیں ـ
بس جی میری وی مجبوری اے !!ـ
پنجابی میں کہتے هیں
اک نال نه کھڑے
دوجا کچھڑ چڑهے
اردو میں کہیں گے
مان نه مان میں تیرا مہمان
یه مشرف صاحب بهی کچھ سپیشل سی هی چيز هیں
پہلے یه فرمایا کرتے تهے که پاکستان کی خاموش اکثریت ان کو پسند کرتی ہے
جو که ایک مغالطه تها
اب جب که الیکشن میں جمہور نے ان کو ائینه دیکهایا ہے تو ان کو یقین هی نہیں آرها یا که واقعی مشرف صاحب ایکسٹرا بیوقوف هیں ؟؟
اس شخص کے جهوٹوں اور کہـ مکرنیوں کی ایک فہرست ہے
جب تاریخ دان تاریخ لکهے گا تو ان صاحب کا ایسا حلیه لوگوں کو دیکها ئے گا که
یارو گڑتھو چوہڑا بهی اس جهوٹے سید سے اعلی ظرف نکلے گا ـ
آب ایک بنده مانے هی ناں که اس کی بے عزتی هوئی ہے تو اس کو کون بے عزت کر سکتا ہے
ایک تمثیل ہے که
مشرف صاحب جیسے بندے کو لوگوں نے کسی بات پر سزا دی که
اس کو منه کالا کرکے گدهے پر بیٹھا کر شہر میں گمایا جائے اور پهر لتر لگائے جائیں ـ
مشرف ٹائیپ یه بندھ جب سزا بهگت کر فارغ هوا تو کہیں بیٹھا تها که کسی نے کہا
اور سناہے تمہیں لتر لگے هیں ؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
نہیں اور لتر نہیں سی بس چهوٹی چهوٹی جوتیاں تهیں ـ
ایک نے کہا تمہیں تو گدہے پر بهی بیٹھایاتهاناں؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
اؤے نہیں او کھوتا نہیں سی بس چهوٹی سی کهوتی تهی میرے تو پاؤں بهی نیچے لگ رهے تهے ـ
تماہارے تو گلے میں جوتوں کا هار بهی تها کسی نے لقمه دیا
تو
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
اوئے پهر کیا ہے اس میں دو تو میری آپنی جوتیاں تهیں ـ
اور جو تمہارا منه کالا کیا گیا تها؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
کتهے ؟ ان کو تو کالک لگانی هی نہیں آتی تهی میرا منه کتنی هی جگه سے کالاهوا هی نہیں تها ـ پانی کے دو هی چهینٹوں سے صاف هوگیا تها ـ
اب یارو اس قسم کے بندے کا کیا کریں ؟؟
ایسے بندے کو کون ہے جو بے عزت کر سکے ؟؟
مشرف شاھ صاحب شاھ بهی هیں
اب معلوم نہیں که کب شاھ بنے تهے ہمیں تو بنے بنائے هی مل گئے هیں ـ
ایسے هی لوگوں کو آپے شاھ کہتے هیں
یعنی بقلم خود
اپنے آپ
آپے شاھ
جاپان میں بڑے شاھ هوتے هیں
ہر چلنے والي چیز کو شاھ کہتے هں جاپانی لوگ
چلنے والی عورت بہرحال شاھ نہیں کہلواتی ـ
مشرف شاھ صاحب کو امریکه نے کسی چلنے والي عورت هی کی طرح چلایا هوا ہے
اور آپے شاھ هیں که چلے هی جائے جا رهے هیں ـ
جاپانی میں سائکل کو جیدین شاھ کہتے هیں
اور ٹرین کو
دین شاھ
گند اٹھانے والے ٹرک کو پھکا شاھ ـ
اور میں امریکه کے لیے چلنے والے شرفو شاھ کو آپے شاھ کا خطاب دیتا هوں ـ
کسی چالو عورت کو جاتا دیکھ کر تھڑے باز کہتے هیں
اے چلدی اے اوئے
اور مشرف صاحب بهی چلدے نے پر انہانوں صرف گورے هی چلاسکدے نے
بہتےپیسے والوں کام ہے جی ـ

