Archive for February, 2009





































اج ایک عجیب کا احساس جاگا که ایک کسک تھی که ایک حیرانی تھی یاکه کچھ اور که چرخ گردوں نے نے بھی پھیرا لینا تھا
یا که میرے اندر کہیں یه خواهش چھپی هوئی هے که لوگ علمی طور پر بھی بڑے هوں ــ
آج میاں عاصم نے مجھے کہا که ہم آپ کی خبریں خریدنے میں دلچسپی رکھتے هیں
وه خبریں جو میں جاپان کی لوکل خبریں جی ایم خاور ڈاٹ نیٹ پر لگاتا هوں ـ
آج برفی باری تھی هلکی سی جو که جمعے کی نماز پڑھنے تک کافی هو گئی تھی
میں نے بھی جو سکریپ ٹرک پر لادھ کر لایا تھا اس کو سکریپ یارڈ میں چھوڑ کر کام کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
اس لیے جین اور جیکٹ میں هی نکلا تھا
اپنے شاھ جی کو بھی فون کرکے ان کے ساتھ هی ان کی گاڑی میں کالی کافی پی اور پھر تھوڑی اوارھ گردی کی جس ميں عامر سکریپ والی کے یارڈ میں اس سے ملنا بھی شامل تھا
عامر جاپان ميں پاکستانیوں میں تعلیم یافته اور حلیم طبیت کاروباری بندھ ہے اس لیے اس سے گفتگو کا مزھ آتا هے
اس کے بعد اباراکی کین کی یوکی شهر والی مسجد میں نماز کے لیے گئے
یه مسجد تین منزله بلڈنگ هے جو که ساری مسجد هی کی ملکیت ہے
اس کی دوسری مسجد هلال فوڈ سٹور اور ڈھابه ٹائپ ریسٹوریٹ بھی ہے اور تیسری منزل پر نماز کی ادائیگی هوتی ہے
مٹن پلاؤ پکا تھا جی میں نے اور شاھ جی نے بھی کھایا اور روایت کے مطابق بل کی ادائیگی شاھ جی نے کی ـ
جی هاں بھولے شاھ صاحب کو ساتھ جب بھی ریسٹوریٹ جائیں بل شاھ جی هی دیتے هیں
تو جی وهاں ماں عاصم نے خبروں کی تجارت پر بات کی تھی تو میں خوش هوا که علمی طور پر اب جاپان میں میں بھی یه ماحول بن گیا هے که تحاریر کی باتیں هوتی هیں یا ان کی قیمت کا احساس پیدا هوا ہے
لاهور میں کہیں علمی لوگوں کی محفلوں میں ایسی باتیں هوتی هوں گی ـ
یا کهیں کسی پبلشر کی بیٹھک (دفتر) میں هوتی هوں گی
جاپان کا ماحول کبھی بھی عملی نهیں رها هے
که اس کی مثال دی جا سکے
اب اس کا مطلب یه بھی نهیں ہے که کم علمی ایسی هو که جیسے میں نے کسی سے پوچھا تھا که جی
اپنا اسم شریف تے دسو
تو اس بندے نے بڑی شرمندگی سی سے کہا تھا
جی اسم شریف تے نہیں آتا درود شریف یاد هے
وهاں فرانس میں ایک سکھ سے پوچھا تھا
که
جی تہاڈا اسم شریف ؟؟
تو اس کا جواب تھا
جی میں لدھیانے دا واں ـ
لیکن یه بات یاد ہے که جب نئے نئے آئے تھے تو جس گھر میں رهتے تھے ان میں سے کچھ دوستوں نے کهیں سے یه محاورھ سن آئے تھے
دریا کو کوزے میں بند کرنے والا
تو جی انهوں نے گھر اتے هی مجھے پوچھا که تم بڑی علمی باتیں کرتے هو اج ذرا بتاؤ ناں جی که دریا کو کوزے میں بند کرنا کسی کو کهتے هیں ؟
جب میں نے ان کو بتایا که کسی بڑی گہری بات کو جس میں کتنے هی معنی نکلتے هوں اس بات کو مختصر کرکے بتا جانے کو دریا کو کوزے میں بندکرنا کہتے هیں تو جی وھ حیران هو گئے که یار تم پیبڈو هو کر بھی ساری باتیں جاتے هو حلانکه وهاں جب ایک بندے نے یه سوال کیا تھا تو بیس بندوں میں سے کسی کو بھی اس کا جواب نهیں ایا تھا
لیکن یارو اب بندھ ان سے پوچھے که ایک محامورے کو جاننے سے خاور کی بات بڑی کیسے هو گئی
ایک اور بات جو میں نهیں بھول سکتا
که ایک لڑکا هوا کرتا تھا ناصر نام کا وهاں گوجرانواله میں ایک وحدت کالونی هے وهاں کا
تو جی ایک دن
ناصر کسی کو فون کررها تھا
که کاٹنے سے پہلے اس کو کہتا ہے
اگر ہمارے لائق کوئی خدمت کو تو ضرور ” عرض ” کرنا
میں نے کہا که یار جی دوسرے بندے کو حکم کرنےکا کہتے هیں ناں که عرض کرنے کا
اپنے عرض کرنے کی بات هو تی کسی کی خدمت میں
تو ناصر اکڑ گیا که جی نهیں همارے گاؤں میں ایسا هی هوتا ہے اور هم ایسے هی کہتے هیں
حالانکه ناصر بڑا چنگا بندھ مشهور تھا جی ان دنوں لوکاں میں ـ







عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آصف علی زرداری نے ہمارے ساتھ بزنس ڈیل کی کوشش کی تھی جسے ہم نے مسترد کر دیا
قومی ایجنڈے میں این آر او حائل ہے ۔ ایک این آر او کی وجہ سے پورا پاکستان سزا بھگت رہا ہے
عدالتی فیصلے کے ذریعے پنجاب کے مینڈیٹ پر طمانچہ مارا گیا ہے اور پاکستان پر وار کیا گیا ہے
صدر تمام حدیں پھلانگ گئے ہیں ۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اہل قرار دینے کی خیرات نہیں مانگیں گے
پنجاب حکومت خیرات میں نہیں ملی کسی کو شب خون نہیں مارنے دیں گے ،نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو گا
قوم کو گھروں میں نہیں بیٹھنا چاہیے یہ سانحہ ہو گا
آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے وکلاء کے ساتھ کندھوں سے کندھا ملا کر چلتے رہیں گے
میاں نواز شریف اور شہباز شریف کا رائے ونڈ میں پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین میاں محمد نوازشر یف اور میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایوان صدر کے فرمان کے ذریعے ہمیں نا اہل قرار دیا گیا ہے۔عبدالحمید ڈوگر کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے آصف علی زرداری نے ہمارے ساتھ بزنس ڈیل کی کوشش کی تھی جسے ہم نے مسترد کر دیا ۔ قومی ایجنڈے میں این آر او حائل ہے ۔ ایک این آر او کی وجہ سے پورا پاکستان سزا بھگت رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے ذریعے پنجاب کے مینڈیٹ پر طمانچہ مارا گیا ہے اور صدر تمام حدیں پھلانگ گئے ہیں ۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اہل قرار دینے کی خیرات نہیں مانگیں گے پنجاب حکومت خیرات میں نہیں ملی کسی کو شب خون نہیں مارنے دیں گے ۔نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو گا قوم کو گھروں میں نہیں بیٹھنا چاہیے یہ سانحہ ہو گا آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے وکلاء کے ساتھ کندھوں سے کندھا ملا کر چلتے رہیں گے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے رائے ونڈ میں پارٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ فیصلہ عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ فرمان ہے یہ فرمان کہاں سے آیا پوری قوم جانتی ہے اس فرمان کے بارے میں پہلے سے کہتے چلے آرہے ہیں فیصلے سے حیرت نہیں ہوئی دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے ہمارے خلاف یا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر دکھ نہیں ہے۔ پہلے کہہ دیا تھا کہ پاکستان پر سینکڑوں پنجاب حکومت اور اہلیت قربان ہیں پاکستان پر وار کیاگیا ان لوگوں نے اوپر وار کیا ہے جنہوں نے آئین پر وار کیا ۔ ان ججز نے پی سی او کا حلف لیا یہ ڈکیٹر کو سلام کرنے والے ججز ہیں ان کی ڈوری کون ہلارہا ہے پوری قوم جانتی ہے ایک سال سے بھرپور تعاون کرتے چلے آرہے ہیں کوشش کی کہ پوائنٹ آف نوریٹرن پر نہ آئیں آصف علی زرداری نے کوئی وعدہ پورا نہ کیا ججز کی بحالی کے بجائیہم سے کہا گیا کہ مشرف کے کاموں پر مہر ثبت کردیں یہ تو اپنے کام پر پانی پھیرنے والی بات تھی ہم معاہدوں پر خوش تھے میںنے خواب دیکھے جو چکنا چو رہو گئے نا اہلیت یا اہلیت کا مسئلہ نہیں ہے نہ اس حوالے سے کوئی دکھ ہے ججز ہم سے بدلہ لینے کی کوشش کر رہے تھے صدر زرداری کو چین سے واپسی پر تحفہ دیا گیا فیصلہ عدالت سے نکل کر سولہ کروڑ عوام کے ہاتھوں میں آگیا ہے ججز کو تسلیم نہیں کرتے سولہ کروڑ عوام اصل فیصلے کا حق رکھتے ہیں عوام نے فیصلے کو رد کر دیا ہے قوم نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کرتے زرداری کو یقین نہیں آرہا تو وہ ریفرنڈم کرا کے دیکھ لے تو نواز شریف نے کہا کہ عوام کو اٹھنا ہو گا ورنہ خدانخواستہ پاکستان ہاتھ سے نکل جائے گا بیشتر اس کے یہ دن آئے عوام کو اٹھنا ہو گا ایسے عناصر جو ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں ان کا محاسبہ کرنا ہو گا ہمیں کہا گیاتھا کہ ججز کی بحالی کا مطالبہ چھوڑ دیں تو مجھے اور شہباز شریف کو نا اہل قرار نہیں دیاجائے گا براہ راست چیف جسٹس نے رابطہ کیا تھا کہ میرا پیچھا چھوڑ دیں اہل قرار دے دیں گے صدر آصف علی زرداری نے بھی ایوان صدر میں لنچ پر شہباز شریف سے کہا تھا کہ آئیں ایک بزنس ڈیل کریں یہ فیصلہ آپ اورنواز شریف کے حق میں آ جائے گا اس کے عوض او ربدلے میں ڈوگر کو توسیع دینے میں مدد کرنا ہو گی مدت ملازمت بڑھانے میں ساتھ دینا ہو گا شہباز شریف نے کہاکہ اس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا زرداری نے کہاکہ یہ بزنس ڈیل ہے واضح ہو گیا کہ ہمارے بارے میں ججز نہیں زرداری کا فیصلہ ہے زرداری ججز کے بارے میں ڈیل کرارہے تھے اہم شخصیات بھی میٹنگز میں موجود تھیں سابق وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں اقتدار منصب ، اہلیت عزیز ہوتی تو کیا ہم اس پر آصف علی زرداری سے اتفاق نہ کر لیتے جبکہ ہمیں نتائج کا علم تھا کہ نا اہل قرار دیں گے ہم نے نا اہلیت کو گلے لگایا مگر پاکستان کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا اس پر بات کرنا ضروری تھا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ججز یا زرداری کا فیصلہ یا ملی بھگت سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے ہم نے خلوص نیت سے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے ہیں زرداری نے اس کا جو حشر کر دیا ہے قوم جانتی ہے آج نہیں تو کل اس عدلیہ کا فیصلہ ریسورس اور کالعدم ہو جائے گا پوری قوم اپنی آنکھوں سے یہ دن دیکھے گی۔ وردی پوش پرویز مشرف کا ایک دن میں اہلیت کا فیصلہ کر دیا گیا کہ یہ وردی میں صدارت کا الیکشن لڑ سکتا ہے آئین قانون اجازت نہیں دیتا لیکن کیونکہ ان ججز نے مشرف کی وفاداری کا حلف اٹھایا تھا ایک سیکنڈ میں انہیں وردی میں اہل قرار دے دیا میں دو مرتبہ وزیراعظم ، دو مرتبہ وزیراعلیٰ جبکہ شہباز شریف بھی دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور ہمیں دو تہائی کی اکثریت بھی ملی ہمیں نااہل قرار دیاجارہا ہے ہم نے جیلیں کاٹی جلا وطنی دیکھی مشرف سے بدتر ہمارے ساتھ اب ہو رہا ہے اس تاریخ کو بدلنے کا وقت آگیا ہے قومی ایجنڈے میں آصف علی زرداری کا این آر او حائل ہے پرویز مشرف کے پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کے سوئٹزر لینڈ کے مقدمات کو معاف کیا تھا قوم کبھی پرویز مشرف کو معاف نہیں کرے گی آئین و قانون کے مطابق یہ مقدمات معاف نہیں ہو سکتے یہ پیسہ قوم کی امانت ہے این آر او کی وجہ سے ججز بحال نہیں ہو رہے ہیں کہ آزاد عدلیہ بحال ہو گئی تو این آر او کو مسترد نہ کردے ایک این آر او کی وجہ سے پاکستان سزا بھگت رہا ہے آٹھ سالوں تک انتخابات کیلئے گریجویشن کی شرط عائد رہی کیونکہ آصف علی زرداری کے پاس بی اے کی ڈگری نہ تھی اور اس نے صدارتی انتخاب لڑنا تھا اس لئے ڈوگر عدالت سے اس قانون کے خلاف فیصلہ دے گیا۔ انہوں نے کہاکہ باقاعدہ پہلے سے جال بنا گیا تھا خنجر گھونپنے والوں نے ایسا خنجر گھونپا جس کی سمجھ نہیںآرہی ہے ہم نے تو ہاتھ ملایا تھا قوم کواس لا قانونیت غیر آئینی فیصلے ملک کے صدر اس مذموم حرکت پر ان تمام غیر آئینی اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے ۔ جمہوری منزل ملکی ترقی خوشحالی کیلئے پہلا زینہ ججز کی بحالی ہے قوم کو اب گھروں میں نہیں بیٹھنا چاہیے گھروں میں بیٹھنے رہنا سانحہ ہو گا مجھے صدر یا وزیراعظم کا عہدہ نہیں چاہیے میں آئین قانون کی حکمرانی کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹوں گا وکلاء کے ساتھ کندھوں سے کندھا ملا کر عدلیہ کی آزادی کو کیلئے قوم ساتھ دے ملک میں جمہوری انقلاب لا کر رہیں گے تین دن قبل پہلے کہا تھا کہ حق میں آئے یا حق میں نہ آئے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمیں خیرات میں نہیں ملی ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو کمزوری کو نہیں زرداری کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ پیپلز پارٹی کو اس معاملے میں ذمہ دار نہیں ٹھہراتا زرداری ذمہ دار ہیں انہوں نے وعدے کئے وہی رکاوٹ ہیں اور وہی جوابدہ ہیں پنجاب اسمبلی کے نئے قائد ایوان کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ اس بارے میں ہمیں وقت دیا جائے سوچ بچار کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کیلئے ریکوزیشن جمع کرادی ہے اجلاس میں آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہو گی نئے قائد ا یوان کا انتخاب ہو گا کسی کو پنجاب حکومت پر شب خون نہیں مارنے دیں گے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہاکہ پنجاب کے مینڈیٹ پر طمانچہ مارا گیا ہے نہ اس کا حق زرداری کو نہ سپریم کورٹ کو پہنچتا ہے ۔ نواز شریف نے کہاکہ آصف علی زرداری تمام حدیں پھلانگ گئے ہیں ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہاکہ پنجاب اسمبلی میں ہمیں اکثریت حا صل ہے آئین کے تابع نہیں بلکہ آصف علی زرداری کا فیصلہ ہے زرداری نے اس حوالے سے بزنس ڈیل کی کوشش کی تھی ہم نے عوامی خواہشات کا قتل نہیں ہونے دیا نواز شریف نے کہاکہ نظر ثانی کی پٹیشن کا ہماری طرف سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پی سی او عدالت میں پہلے بھی نہیں گئے اور اب بھی نہیں جائیں گے یہ اس کو انصاف دے گی جس کے پاس دولت ، سفارش ، عہدہ ہے یا جس سے یہ ڈرتے ہیں عام آدمی کو انصاف کی توقع نہیں ہے ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہاکہ پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کی تجویز سے آگاہ نہیں ہوں ۔نواز شریف نے کہاکہ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگے گی آئندہ انتخابات سے قبل اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا ورنہ انتخابات میں عوام اپنے فیصلے کے ذریعے اسے مسترد کر دے گی ہم توڑ پھوڑ کے حق میں نہیں پر امن احتجاج عوام کا حق ہے عوام اگر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں کون روک سکتا ہے پوری قوم ملک کے ساتھ نا انصافی کے ازالے کیلئے اُٹھ کھڑے ہو عوام کو ان کے حقوق دلانے کیلئے کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے ہم پارلیمنٹ سے ایکٹ کے ذریعے نا اہلیت کو ختم کرانے کی خیرات نہیں مانگیں گے یہ عدلیہ اگر مجھے اہل بھی قرار دے دیں تو اس فیصلے کے تحت پھر بھی میں کم از کم انتخابات میں حصہ نہ لیتا








