Archive for December, 2008
هم خود ساخته جلا وطن لوگوں کی اکثریت کا شروع میں یہی خیال تھا که چار پیسے کما کر اپنے وطن میں زندگی گزاریں گے ـ
مگر اپنے وطن کو حالات کی مسلسل خراب هوتی حالت نے هماری سوچ اتنی بدل دی ہے که همیں اب اپنا وه ارادھ هی بھول گیا ہے که کبھی هم نے پاکستان میں بسنے کا سوچا تھا ـ
اب تو یه حالت ہے که باهر کے ممالک میں مکان خرید لینے اور کسی ملک کی نیشنیلٹی مل جانے کو بھی فخر سمجھنے لگے هیں ـ
لیکن یارو پاکستان جا کر بسنے کی ایک چنگاری حالات کی راکھ میں دبی رهتی هے
کبھی کبھی اگر یه چنکاری شعله بنے بھی لگے تو پاکستان گے سیاسی حالات اس پر پانی ڈال کر جاتے هیں ـ
نواز شریف کی پہلی وزارت عظمی کے دنوں میں یه چنگاری میں نے شعله بنتے دیکھی ـ
ان دنوں میں دنیا کی سیاحت پر نکلا هوا تھا
ملک ملک پھر رها تھا که جہاں کسی پاکستانی سے ملاقات هوتی تھی اس کے منه سےنکلتا تھا که
جی میں اب پاکستان منتقل هونے کا سوچ رها هوں
که کاروباری حالات ٹھیک هی گئے هیں ـ
کتنے هی لوگوں نے مجھے بتایا که انہوں نے پیسا پاکستان منتقل کرنا شروع کر دیا ہے ـ
اور پاکستان میں حالات یه تھے که مزدوروں کے پاس وقت نہیں تھا
ٹریکٹر ٹرالی پر مٹی ڈھونے والے کمہاروں کو مٹی کھود کر ٹرالی میں ڈالنے والے مزدور نہیں مل رهے تھے
دوکان دار اور دوسرے کاروباری جو که باهر سے آنے والوں كو رشک كی نظر سے دیکھتے هیں انہوں نے بھی کہنا شروع کردیا تھا که جی
هم تو جی اپنے ملک میں هی مطمعن هیں ـ
محلاتی سازشوں نے نواز شریف کی حکومت گرا دی
اور حالات پھر خراب هونے لگے
بعد میں نواز شریف کو بھی موقع دیا تو گیا مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہـ چکا تھا
که شریفین کی کرپشن کی بھی اڑنے لگیں ـ
عام بندے کے حالات خراب سے خراب تر هونے لگے
اور باهر والوں نے پھر سے انہی ملکوں میں ٹکنے کو بهتر جانا ـ
لیکن ایک بات میں نے ان تارکین وطن میں هر دور میں دیکھی ہے که جس ملک میں رھ رہے هوتے هیں اس ملک سے زیادھ پاکستان کے حالات پر نظر رکھتے هیں ـ
ان کے دل پاکستان میں رہنے والوں سے زیادھ پاکستان کے لیے دھڑکتے هیں ـ
جب بھی کہیں محفل لگتی هے تو پاکستان گے سیاسی حالات هی موضوع هوتے هیں ـ
پاکستان سے تارکین کی اس محبت کو چالاک لوگوں نے اپنی اپنی سی سکت کے مطابق کیش بھی کروایا
که کسی نے
مذھبی ادارے کے نام پر پاکستان کے حالات کو سنوانے کی امید دلا کر هر ملک میں اپنی اولاد کے لیے جائیداتیں بنائیں ـ
تو کسی نے هسپتال کے نام پر
یه هسپتال کے نام پر چندھ اکٹھا کرنا تو جی بہت هی اسان ہے
که ان تارکین وطن لوگوں کے گھر والوں نے جنہون نے ان کو طرح طرح سے بیوقوف بنا کر پیسے بٹورے هوتے هیں
جب دیکھتے هیں که اب باهر والے پیسے بھیجنے میں ہچکچانے لگے هیں تو ماں کی بیماری کو بہانه بنا کر پیسے منگوانے لگتے هیں
اس لیے باهر والے سارے هی لوگ اس بات پر پیسے دینے پر فوراً راضی هو جاتے هیں که جی
غریب لوگوں کا علاج مفت هو گا
کیونکه انہوں نے اپنی ماں کے علاج پر اٹھنے والا بے بہا خرچ دیکھا هوتا ہے
حالانکه وه پیسے بھائوں بہنوئیوں اور رشته داروں کی عیاشیوں پر خرچ هو چکے هوتے هیں ـ
هسپتال میں مفت علاج هو هی نہیں سکتا !!ـ
دوائیوں پر خرچ ائے گا هی تو ڈاکٹر کا گھر کیسے چلے گا ؟؟
عمارت کی مرمت وغیرھ کا بھی خرچ هوتا ہو تو جی مشینوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی
اس لیے جب لوگ عمران خان کے هسپتال میں جاتے هیں تو مایوس هو جاتے هیں که
عمران خان نے تو غریبوں کے لیے هسپتال بنایا تھا
تو اب یه پیسے کس لیے مانگ رها هے ؟؟
میں یه ساری باتیں اس لیے لکھ رها هوں که
همارے ایک بڑے هی مہربان دوست هیں جی
میاں عظمت صاحب

میاں صاحب ، فیض میان ٹریڈنگ کے نام سے جاپان میں کاروبار کرتےهیں
میاں صاحب ایک مضبوط کاروباری حثیت کے مالک هیں
دو دن پہلے ان کے ساتھ بیٹھے تھے که انہوں نے یه بات چھیڑ دی که پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاهیے ـ
میاں عظمت کے بڑے بھائی میاں سلیم یہاں مسلم لیگ ن کے بڑے سرگرم کارکن هیں جی !ـ
میں نے ان کے سر کو ھاتھ لگا کر تو نہیں دیکھا که کتنا گرم ہے
لیکن مسلم لیگ ن کے لیے ان کے لہجے میں کافی گرمی هوتی هے اس لیے هو سکتا ہے که سر بھی گرم هو ـ
میان عظمت صاحب کیونکه کاروباری هیں اس لیے ان کو کسی سیاسی پیلٹ فارم میں صرف پیلٹیں هی پلیٹیں نظر اتی هیں ـ
پچھلی نشست میں میان صاحب کی گفتگو میں ایک درد تھا که جی پاکستان گو لیے کچھ کریں
ان کے خیال میں همیں جاپان میں رہنے والوں کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی بجائے خود سے یه کام کرنا چاهیے که
که کچھ لوگ ایک جگه اکھٹے هو کر اس طرح کریں که پیسے اکھٹے کر کے پاکستان میں کہیں فیکٹری یا مل لگائیں که ایک تو لوگوں کو کاروبار میسر هو گا اور دوسرا پاکستان میں کوئی تکنیک بھی جاگے گی ـ
میں نے پوچھا که پاکستان میں کہاں ؟؟
تو ان کا جواب تھا که کہیں بھی !!ـ
جاں سب مل کر فیصله کر لیں
ضروری نهیں که میرے گاؤں میں !ـ کہیں بھی !!ـ
ان کے خیال میں جاپان کے کاروباری لوگوں کے لیے ایک ملین ین کوئی بڑی رقم نہیں هے
اور اگر ایک سو ادمی مل کر ایک ایک ملین ین ڈالیں تو سو ملین ین سے کافی بڑا پروجیکٹ شروع کیا جاسکتا ہے ـ
یاد رہے که ایک ملین ین کے پاکستانی روپے بنتے هیں ساڑھے آٹھ لاکھ !ـ
میان صاحب کے یه خیالات بتارہے هیں که ان کے اندر کی اس آگ کو کوئی کسی دن کیش کروانے کے لیے اجائے گا
اور ان سے چندے کے نام پر پیسو بٹور لے گا
چاهے ایک دو ملین ین سے میان صاحب کوکوئی فرق ناں بھی پڑے
لیکن ـ ـ ـ ـ ـ

